یلاپور، 24؍ جولائی (ایس او نیوز) شیرلے فالس کے پاس سیر کے لئے جانے کے بعد وہاں سے بھٹک جانے والے 6 افراد کو محکمہ جنگلات اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے بچا لیا ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلات کے افسران نے ہبلی سے شیرلے فالس کی سیاحت کے لئے آئے ہوئے ایک گروپ کو وہاں جانے سے روکا تھا کیونکہ آبشار کے مقام سے جوڑنے والا پل برساتی سیلاب میں بہہ گیا تھا۔ مگر افسران کی تنبیہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس گروپ میں شامل 6 افراد فالس کی طرف سیر کے لئے جنگل کے اندرانجان راستے سے چلے گئے اورراستہ بھٹک کر جنگل میں گم ہوگئے ہیں ۔
جب شام تک ان لوگوں کی موٹر بائکس جنگل کے باہر سڑک پر پائی گئیں اور یہ لوگ جنگل سے واپس نہیں لوٹے تو محکمہ جنگلات کے افسران نے مقامی پولیس کے پاس شکایت درج کروائی ۔ اسی کے ساتھ پولیس ، فاریسٹ افسران، فائر اینڈ ایمرجنسی شعبہ کے عملہ نے لاپتہ افراد کے لئے تلاشی مہم شروع کی مگر یلاپور کے اطراف میں موسلا دھار برسات اور زمین کھسکنے کے واقعات کی وجہ سے اس میں رکاوٹ پیدا ہوئی ۔
اس دوران جنگل میں بھٹکنے والے یہ 6 افراد یلاپور کے مغربی گھاٹ علاقے میں کئی گھنٹوں تک جنگل کے اندر ابلتے ہوئے چشموں کے کنارے چلتے ہوئے جنگل میں موجود راگھویندرا بھٹ نامی شخص کے فارم ہاوس تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ بھٹ نے ان کو قیام و طعام کی سہولت فراہم کی ۔ دوسرے دن صبح تلاشی مہم پر نکلی ہوئی ٹیم بھٹ کے مکان تک پہنچ گئی اور گم شدہ افراد کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ پھر پولیس کی طرف سے سخت تنبیہ کے بعد ان لوگوں کے ان کے گھر والوں کے حوالہ کردیا گیا۔
محکمہ جنگلات کے افسران نے بتایا کہ ان نوجوانوں کی یہ حرکت غیرقانونی طور پر جنگلاتی علاقے میں داخل ہونے جیسی ہے اور اس کے لئے ان پر قانونی اقدام کیا جا سکتا ہے، لیکن انہیں تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔ سیاحوں کی طرف سے قانون کی پابندی نہ کرنے اور کشیدگی اور مشکلات پیدا کرنے کا معاملہ اس علاقے میں پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے ۔ شیرلے آبشار کے علاقے سے جڑنے کے لئے مقامی افراد ایک لکڑی کا پل بناتے ہیں جو اکثر برسات کے موسم میں بہہ جاتا ہے ۔ لوگوں کو اس حقیقت کا علم نہیں ہوتا اور وہ اس علاقے میں جا کر پھنس جاتے ہیں۔